janat ka phal



Dates

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل
کہتے ہیں حضرت موسیٰ  علیہ السلام کی قوم پر آسمان سے کھانا اترتا تھا۔ اس میں جنّت کے پھل اور ناؤ نوش کی چیزیں شامل تھیں ۔ مگر بنی اسرائیل نے اس کی قدر نہ کی ۔جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ نعمت نازل کرنا بند کردی۔  



من و سلویٰ میں کیا کیا چیزیں شامل تھیں ،یہ تو اللہ 
تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہی بہتر جانتے ہیں لیکن احادیث کے مطابق عجوہ کھجور دنیا میں جنت کا پھل 
ہے۔
اس میں جادو سے نجات، زہر سے نجات،آنکھوں کے امراض،جنون ،پاگل پن یا نفسیاتی امراض سے نجات،دورانِ سر اور دل کے امراض سمیت متعدد بیماریوں سے شفا ہی شفا ہے جن کی تفصیل یہاں کلک کرکے پڑھی جا سکتی ہے۔ان سب سے بڑھ کر یہ دنیا ہی میں جنّت کا پھل اور نبی پاک(صلیٰ اللہ علیہ وسلم )کی مرغوب ترین چیز ہے۔جس کا درخت آپ(صلیٰ اللہ علیہ وسلم )نے اپنے دستِ مبارک سے لگایا تھا۔تاریخ اسلام میں سب سے پہلا ہارٹ اٹیک حضرت سعد بن ابی وقاص کو ہوا نبی اکرم (صلیٰ اللہ علیہ وسلم )نے ان کاعلاج عجوہ کھجور کی گٹھلیاں کھلا کر کیا اور وہ مکمل طور پر صحت مند ہوگئے عجوہ آج بھی مدینہ کی عمدہ ترین،لذیز ترین اور انتہائی مہنگی کھجور ہے۔
عجوہ کی افادیت جن احادیث کی افادیتان میں سے چند یہ ہیں۔

احادیثِ مبارکہ



”عن عائشة  ان رسول اللّٰہ اقال ان فی العجوة شفاء وانہا تریاق اول البکرة“۔ (۱۱)

ترجمہ:․․․․”حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا” عالیہ کی عجوہ کھجوروں میں شفاء ہے اور وہ زہر وغیرہ کے لئے تریاق کی خاصیت رکھتی ہیں‘ جب کہ اس کو دن کے ابتدائی حصہ میں (یعنی نہار منہ کھایا جائے)۔“  

”قال رسول اللہ ا العجوة من الجنة وہی شفاء من الجنة“۔ (۱۶)
ترجمہ:․․․”آپ انے فرمایا: عجوہ جنت سے ہے اور اس میں جنون سے شفا ہے“۔
عجوہ جنت کی کھجور ہے

”عن ابی ہریرہ قال: قال رسول اللّٰہ ا العجوة من الجنة وما فیہا شفاء من السم والکماة من المن وماء ہا شفاء للعین“ ۔ (۱۷)
ترجمہ:․․․”حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے فرمایا : عجوہ جنت کی کھجور ہے اور اس میں زہر سے شفاء ہے اور کمأة (کھنبی) (۱۸) من (کی ایک قسم) اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے“۔
تشریح:
”عجوہ جنت کی کھجور ہے“ کا مطلب یا تو یہ ہے کہ عجوہ کی اصل جنت سے آئی ہے‘ یا یہ کہ جنت میں جو کھجور ہوگی وہ عجوہ ہے اور یایہ کہ عجوہ ایسی سودمند اور راحت بخش کھجور ہے گویا وہ جنت کا میوہ ہے‘ زیادہ صحیح مطلب پہلا ہی ہے۔

ملک کے نامور صحافی اور کالم نگار،معروف صنعت کار اور سابق آرمی چیف دل کے امراض کے علاج کے لئے اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر عجوہ کھجور ہی تجویز کرتے ہیں 

حرم کے قرب و جوار میں عجوہ 100 ریال فی کلو سے بھی مہنگی فروخت ہوتی ہے۔پاکستانی روپوں میں اس کی قیمت 2400 سے 3000 روپے فی کلو تک بنتی ہےاس کے باوجود اس کی افادیت کی وجہ سے اس کی طلب بہت زیادہ ہے۔ 
اور حج و عمرے کی نیت سےجانے والے خواتین و حضرات زم زم کے علاوہ اپنی استطاعت کے مطابق عجوہ ضرور لانے کی کوشش کرتے ہیں اور عزیز رشتے داروں میں محض ایک ایک یا دو دو کھجور ہی تقسیم کر تے ہیں۔اور اگر کوئی حج یا عمرے کے لئے جا رہا ہوتو اس سے بطورِ خاص عجوہ منگواتے ہیں.عجوہ محض اوپر دی گئی بیماریوں کے لئے ہی مفید نہیں بلکہ خواتین اور مردوں کی بہت سی بیماریوں کے بھی اکسیر ہے.
چونکہ تجارت سنتِ رسول (صلیٰ اللہ علیہ وسلم )بھی ہے اور اس میں اللہ (جلِ شانہ) کی طرف سے برکت بھی۔
اس لئے ہم نے اس تجارت کو شروع کیا ہے۔ہمارے پاس مدینہ سے درآمد شدہ  اصلی اور خالص عجوہ کھجور دستیاب ہے۔ 
ہم منی بیک گارنٹی کے ساتھ عجوہ فروخت کرتے ہیں (یعنی خریدنے کے بعد اگر آپ کو سمجھ میں نہ آئے تو آپ اپنے پیسے واپس لے سکتے ہیں) منی بیک ہم 3200 روپے فی کلو میں عجوہ فروخت کرتے ہیں اگر آپ آدھا کلو منگوانا چاہیں تو یہ آپ کو 1700 روپے میں ملے گی۔
اگر آپ کی جانب سے حوصلہ افزائی رہی تو ہم اس سلسلے کو جاری رکھیں گے ورنہ بند کردیں گے۔پر عوام کی بہت بڑی تعداد عجوہ کو پسند کرتی ہے عجوہ کو پسند کرنے والوں کی 
اپنا آرڈر دینے کیلئے آپ کو کہیں جانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کہیں کال کرنے کی بس نیچے دیا ہوا  فارم پر کرکےsubmit کا بٹن دبادیں آپ کا نام پتہ اور فون نمبر ہمیں مل جائے گا جس کے بعد ہم خود آپ سے رابطہ قائم کرلیں گے اور آپ کے دئیے ہوئے پتے پر عجوہ پہنچا دیں گے۔ ویسے آپ چاہیں تو خود بھی ہم سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment

 
Copyright © 2013. Dienekes Blog
Support by CB Engine